سولر سسٹم کے باوجود بجلی کے بھاری بل
مہنگی بجلی اور بڑھتے ہوئے بلوں سے نجات کے لیے سولر سسٹم کو ایک بہترین متبادل سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ہزاروں صارفین سولر لگوانے کے باوجود یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے بجلی کے بل کم کیوں نہیں ہو رہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سسٹم کی غلط ڈیزائننگ اور گھریلو یا کمرشل استعمال کے مطابق درست کلوواٹ کی پلاننگ نہ ہونا ہے۔ اکثر اوقات صارف کو زیادہ لوڈ کے لیے کم صلاحیت کا سسٹم لگا دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں گرڈ سے بجلی لینا پڑتی ہے اور بل کم ہونے کے بجائے برقرار رہتا ہے۔ اس کے علاوہ نیٹ میٹرنگ کی تاخیر، غلط میٹر ریڈنگ، پرانا یا خراب میٹر، اور انورٹر کی غیر مؤثر کارکردگی بھی اہم عوامل ہیں۔
مزید یہ کہ سولر پینلز کی مناسب صفائی، وقتاً فوقتاً سروس، اور سسٹم کی باقاعدہ مانیٹرنگ نہ ہونے کی صورت میں بجلی کی پیداوار نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر ماہانہ بل پر پڑتا ہے۔ کئی صارفین اس بات سے بھی لاعلم ہوتے ہیں کہ دن کے اوقات میں زیادہ بجلی استعمال نہ کرنے سے سولر کا پورا فائدہ حاصل نہیں ہو پاتا، کیونکہ اضافی یونٹس یا تو ضائع ہو جاتے ہیں یا نیٹ میٹرنگ نہ ہونے کی وجہ سے گرڈ میں شامل نہیں ہو پاتے۔ اگر سولر سسٹم کا تفصیلی آڈٹ کروایا جائے، درست تکنیکی رہنمائی حاصل کی جائے، اور استعمال کے طریقے میں بہتری لائی جائے تو سولر واقعی بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی لا سکتا ہے اور طویل مدت میں ایک محفوظ اور فائدہ مند حل ثابت ہو سکتا ہے۔
