حکومت کا بڑا فیصلہ بجلی کے نقصان والے فیڈرز اب سولر پر منتقل ہوں گے
حکومت کا بڑا فیصلہ بجلی کے نقصان والے فیڈرز اب سولر پر منتقل ہوں گے
حکومت پاکستان کی جانب سے حالیہ عرصے میں بجلی کے شعبے سے متعلق جو بڑے فیصلے سامنے آئے ہیں، ان میں سب سے اہم فیصلہ نقصان والے فیڈرز اور زیادہ لاسز والے علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے موجودہ نظام کو تبدیل کرنا ہے، جس کے تحت ایسے صارفین کو مرحلہ وار سولر انرجی کی طرف منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، اس فیصلے کی بنیادی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے دوران ہونے والے بھاری نقصانات نے قومی خزانے پر بہت بڑا بوجھ ڈال رکھا ہے، کئی علاقوں میں لائن لاسز، بجلی چوری، پرانا انفراسٹرکچر اور بلوں کی عدم وصولی کی وجہ سے فیڈرز مسلسل خسارے میں جا رہے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایماندار صارفین کو بھی مہنگی بجلی خریدنی پڑتی ہے اور حکومت کو ہر سال اربوں روپے کی سبسڈی دینی پڑتی ہے، اسی پس منظر میں یہ سوچ ابھری کہ کیوں نہ ایسے علاقوں میں جہاں بجلی فراہم کرنا مسلسل نقصان کا سبب بن رہا ہے وہاں شمسی توانائی کو فروغ دیا جائے، کیونکہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں سال کے زیادہ تر دن دھوپ موجود رہتی ہے اور سولر سسٹمز کے ذریعے سستی اور صاف بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، حکومت کے مطابق اگر نقصان والے فیڈرز پر انحصار کم کر کے گھروں، سرکاری عمارتوں، اسکولوں، اسپتالوں اور چھوٹے کاروباروں کو سولر سسٹمز پر منتقل کیا جائے تو نہ صرف لائن لاسز کم ہوں گے بلکہ بجلی کی مجموعی لاگت میں بھی واضح کمی آئے گی، اس فیصلے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے لوڈشیڈنگ میں کمی، ماحول کی بہتری اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ دوسری طرف ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ہر صارف کے لیے سولر سسٹم لگانا واقعی آسان اور ممکن ہے، کیونکہ ابتدائی لاگت عام آدمی کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے، اگرچہ حکومت آسان اقساط، سبسڈی یا بینک فنانسنگ جیسے آپشنز پر بھی غور کر رہی ہے، اس کے علاوہ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر زیادہ سے زیادہ صارفین گرڈ چھوڑ کر سولر پر منتقل ہو گئے تو بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی آمدن مزید کم ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں باقی صارفین پر بوجھ بڑھنے کا خدشہ بھی موجود ہے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ نقصان والے فیڈرز پہلے ہی خسارے میں ہیں اس لیے وہاں تبدیلی لانا ناگزیر ہو چکا ہے، اس فیصلے کے اثرات عام صارف کی روزمرہ زندگی پر بھی پڑیں گے، ایک طرف وہ مہنگے بلوں اور بار بار کی لوڈشیڈنگ سے نجات حاصل کر سکتا ہے، دوسری طرف سولر سسٹم کی دیکھ بھال، بیٹریوں کی تبدیلی اور تکنیکی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، دیہی علاقوں میں یہ منصوبہ نسبتاً زیادہ کامیاب دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہاں بجلی کی ترسیل پہلے ہی مشکل اور مہنگی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں نیٹ میٹرنگ، پالیسیوں کی تبدیلی اور بجلی خرید و فروخت کے قوانین ایک اہم کردار ادا کریں گے، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حکومت کا یہ فیصلہ ایک بڑے نظامی بدلاؤ کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو اگر درست منصوبہ بندی، شفاف پالیسی اور عوامی سہولت کے ساتھ نافذ کیا گیا تو پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس پر جلد بازی میں عمل کیا گیا اور عام صارف کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا تو یہ فیصلہ مزید پیچیدگیاں بھی پیدا کر سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، بجلی کمپنیاں اور صارفین مل کر ایک ایسا راستہ اختیار کریں جو طویل مدت میں ملک اور عوام دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔
