حکومت کا بڑا فیصلہ نقصان والے بجلی فیڈرز اب سولر پر منتقل ہوں گے
مستحق گھرانوں کو سولر سسٹم کی فراہمی، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا فیصلہ پختونخوا ڈیجیٹل، تازہ ترین / January 12, 2026
خیبرپختونخوا حکومت نے ضم اضلاع میں 1 لاکھ 20 ہزار مستحق گھرانوں کو مفت یا آسان اقساط پر سولر سسٹم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہر گھر کو 2 کلو واٹ سولر سسٹم دیا جائے گا، جس میں انورٹر اور دیگر ضروری آلات شامل ہوں گے۔ اسکیم کے تحت فی سولر سسٹم کی لاگت 2 لاکھ 55 ہزار سے 3 لاکھ روپے تک متوقع ہے اور مجموعی طور پر منصوبے پر 13 ارب روپے خرچ ہوں گے جو حکومت فراہم کرے گی۔
سولر منصوبہ باجوڑ، خیبر، کرم، اورکزئی، مہمند، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں نافذ کیا جائے گا اور اسے بینک آف خیبر کے فنانشل ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ حکومت نے سولر سسٹم کی قیمت قابلِ واپسی یا ناقابلِ واپسی رکھنے کے دو آپشنز تجویز کئے ہیں، قابلِ واپسی صورت میں صارف 36 ماہ میں تقریباً 8 ہزار 300 روپے ماہانہ ادا کرے گا اور ناقابلِ واپسی صورت میں صارف سے کوئی رقم وصول نہیں کی جائے گی۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد ضم اضلاع کے محروم طبقات کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات دلانا اور ان کے ماہانہ اخراجات میں کمی لانا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس شفاف عمل کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی مانیٹرنگ سیل بھی قائم کیا جائے گا تاکہ حقداروں تک ان کا حق پہنچ سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف قبائلی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور متبادل توانائی کے استعمال کو بھی فروغ ملے گا۔
سولر اسکیم کیلئے مستحقین کا انتخاب خیبرپختونخوا حکومت کرے گی اور وینڈرز کا انتخاب بینک آف خیبر جبکہ تکنیکی معاونت پیڈو (PEDO) فراہم کرے گا
