بیٹری لیں یا ہائبرڈ سسٹم؟ فیصلہ آج ہی آسان بنا لیں
پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافہ اور لوڈشیڈنگ نے گھرانوں اور کاروباروں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ متبادل توانائی کے ذرائع کی طرف جائیں، اور انہی میں سولر سسٹم سب سے زیادہ مقبول ہو رہا ہے۔ لیکن سولر سسٹم لیتے وقت سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے کہ صرف بیٹری لیں یا پورا ہائبرڈ سسٹم؟ یہی وہ نکتہ ہے جس پر لوگ اکثر کنفیوز ہو جاتے ہیں، اور انسٹالیشن کے بعد احساس ہوتا ہے کہ بہتر فیصلہ کیا جا سکتا تھا۔ اس لیے آج ہم ایک ہی پیراگراف میں تفصیل کے ساتھ سمجھیں گے کہ دونوں میں فرق کیا ہے، ان کے فائدے کیا ہیں، کن حالات میں بیٹری بہتر ہے، اور کب ہائبرڈ سسٹم ضروری ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے اگر بیٹری سسٹم کی بات کریں تو یہ بنیادی طور پر ان گھروں کے لیے موزوں ہے جہاں لوڈشیڈنگ ہوتی ہے لیکن بجلی کا بل اتنا زیادہ نہیں آتا، یا پھر صارف کا مقصد صرف بجلی کا بیک اپ لینا ہوتا ہے، یعنی جب لائٹ جائے تو پنکھے، لائٹس یا چند ضروری چیزیں چلتی رہیں۔ بیٹری سسٹم نسبتاً کم خرچ ہوتا ہے، اس کی انسٹالیشن آسان ہے اور اسے چلانا بھی سادہ ہے۔ لیکن اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ یہ صرف بیک اپ دیتا ہے، بجلی کا بل کم نہیں کرتا، اور اگر بیٹری ڈیپ ڈسچارج ہو جائے یا بار بار لوڈ زیادہ لگ جائے تو اس کی لائف کم ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف ہائبرڈ سولر سسٹم ایک مکمل اسمارٹ حل ہے جو ایک وقت میں تین ذرائع استعمال کر سکتا ہے: سورج کی روشنی (Solar)، واپڈا، اور بیٹری۔ یعنی اگر دن کے وقت سورج موجود ہے تو گھر کی زیادہ تر لوڈ شمسی توانائی سے چلتی ہے، اور واپڈا پر انحصار انتہائی کم ہو جاتا ہے۔ بیٹری صرف ضرورت کے وقت استعمال ہوتی ہے، مثلاً شام کے وقت یا لوڈشیڈنگ کے دوران۔ یہی وجہ ہے کہ ہائبرڈ سسٹم نہ صرف بجلی کا بل ڈرامائی طور پر کم کرتا ہے بلکہ بیٹری کی لائف بھی بڑھاتا ہے کیونکہ وہ پورا بوجھ نہیں اٹھاتی۔ ہائبرڈ انورٹرز میں MPPT ٹیکنالوجی، چارج کنٹرولر، لوڈ مینجمنٹ، اور اسمارٹ کنزیومر کنٹرول جیسے فیچر ہوتے ہیں جو پورے گھر کی پاور ڈسٹری بیوشن کو بہتر بناتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ آپ کے لیے کون سا بہتر ہے؟ اگر آپ ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں روزانہ لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، لیکن بجلی کا بل کم ہے اور آپ صرف 4 سے 8 گھنٹے کا بیک اپ چاہتے ہیں، تو بیٹری سسٹم آپ کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ یہ کم بجٹ میں قابلِ عمل ہے اور فوری حل فراہم کرتا ہے۔ لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ بجلی کا بل آدھا یا مکمل ختم ہو جائے، آپ دن بھر AC چلانا چاہتے ہیں، آپ چاہتے ہیں کہ سسٹم خودکار طریقے سے لوڈ کو منظم کرے، بجلی ضائع نہ ہو، اور آپ مستقبل میں سسٹم بڑھانا (Upgrade) بھی چاہیں تو پھر ہائبرڈ سسٹم آپ کے لیے بہترین ہے۔ ہائبرڈ سسٹم میں یہ صلاحیت بھی ہوتی ہے کہ اگر کل کو آپ بیٹری بڑھانا چاہیں، سولر پینلز میں اضافہ کرنا چاہیں یا واپڈا بحال ہونے کے بعد AC اور بڑے آلات آسانی سے چلانا چاہیں تو آپ کو مکمل فلیکسیبلیٹی ملتی ہے۔ بیٹری سسٹم میں یہ آپشن محدود ہوتے ہیں۔
مالی اعتبار سے دیکھیں تو بیٹری سسٹم کی لاگت کم ہے لیکن چلانے کی قیمت زیادہ، کیونکہ بیٹری ہر دو سے تین سال میں بدلنی پڑتی ہے، جبکہ ہائبرڈ سولر سسٹم کی ابتدائی قیمت زیادہ ہوتی ہے لیکن چلانے کی لاگت انتہائی کم، کیونکہ سولر سے دن بھر مفت بجلی ملتی ہے اور بیٹری صرف ضرورت کے وقت استعمال ہوتی ہے، جس سے اس کی لائف 5 سے 7 سال تک جا سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں سورج کی روشنی سال کے 300 دن بہت عمدہ رہتی ہے، ہائبرڈ سسٹم دراصل ایک لمبے عرصے کی سرمایہ کاری ہے۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ اگر بجٹ اجازت دے تو ہمیشہ ہائبرڈ سسٹم کا انتخاب بہتر رہتا ہے، کیونکہ آپ نہ صرف لوڈشیڈنگ سے بچتے ہیں بلکہ بجلی کے بھاری بھرکم بلوں سے بھی نجات مل جاتی ہے۔ مجموعی طور پر خلاصہ یہی ہے کہ بیٹری سسٹم صرف وقتی سہولت ہے، جبکہ ہائبرڈ سسٹم مستقبل کی محفوظ سرمایہ کاری ہے۔ فیصلہ کرتے وقت صرف قیمت نہ دیکھیں، بلکہ اپنی لوڈشیڈنگ، بجلی کے بل، روزمرہ استعمال، مستقبل کی اپگریڈنگ، اور سسٹم کی لائف کو مدِنظر رکھیں۔ اگر سمجھداری سے فیصلہ کیا جائے تو ایک ہی دفعہ خرچ کر کے آپ آنے والے 10 سے 15 سال تک مطمئن رہ سکتے ہیں، اس لیے آج اپنا فیصلہ آسان بنا لیں اور وہ سسٹم منتخب کریں جو واقعی آپ کی ضرورت پوری کرے، نہ کہ وہ جسے بعد میں بدلنے کا افسوس ہو۔
