یہ 3 چیزیں نہ جانیں تو سولر سسٹم آپ کے لیے نقصان بن جائے گا
یہ 3 چیزیں نہ جانیں تو سولر سسٹم آپ کے لیے نقصان بن جائے گا
پاکستان میں بجلی کے بڑھتے ہوئے ریٹ، لوڈشیڈنگ، اور غیر یقینی حالات نے لوگوں کو تیزی سے سولر انرجی کی طرف مائل کیا ہے۔ گھر ہو، دفتر ہو یا کاروبار—ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ مہنگی بجلی کے بلوں سے جان چھڑائے اور اپنے اخراجات کم کرے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ بغیر تحقیق، بغیر پلاننگ اور بغیر صحیح معلومات کے سولر لگوا لیتے ہیں، جس کی وجہ سے سولر سسٹم فائدے کی بجائے الٹا نقصان بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سولر ایک بہترین سرمایہ کاری ہے، مگر صرف تب! جب آپ وہ تین اہم باتیں سمجھ لیں جن کا جاننا ہر خریدار کے لیے لازمی ہے۔ اگر آپ نے یہ 3 پوائنٹس نظرانداز کیے تو یقین کریں، چاہے آپ لاکھوں کا سسٹم لگوا لیں… فائدہ پھر بھی نہیں ہوگا، بلکہ مسئلے ہی مسئلے کھڑے ہوں گے۔
1) اپنی اصل لوڈ کی ضرورت کو ٹھیک طرح سمجھیں – غلط سائز کا سولر سب سے بڑا نقصان!
پاکستان میں اکثر لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ 3kW، 5kW، 10kW یا دوسروں کے مشورے پر کوئی بھی سسٹم لے لیتے ہیں، بغیر یہ سوچے کہ ان کا گھر اصل میں کتنی بجلی استعمال کرتا ہے۔ ہر گھر کا صارف مختلف ہے۔ کسی کے پاس تین اے سی چل رہے ہیں، کوئی فریج اور فریزر ڈبل رکھتا ہے، کسی کا کاروبار برقی مشینوں پر چلتا ہے۔ سولر کبھی بھی اندازے سے نہیں لگانا چاہیے۔ لوڈ کا غلط حساب کرو گے تو دو نقصان ہوں گے:
پہلا—آپ کا سسٹم کمزور پڑ جائے گا، گرمیوں میں بیٹریز بیٹھ جائیں گی، اے سی نہیں چلے گا، اور آپ دوبارہ اپگریڈ کروانے کے چکر میں خرچ پر خرچ کرتے رہیں گے۔
دوسرا—اگر آپ نے ضرورت سے زیادہ بڑا سسٹم لگوا لیا، تو اضافی پیسہ ضائع ہوگا، جیسا کہ ضرورت 3kW کی تھی اور آپ نے 10kW لگا لیا۔ سولر کی اصل بچت تب ہوتی ہے جب سسٹم آپ کی کھپت کے مطابق ڈیزائن ہو۔ بہترین طریقہ یہ ہے کہ 3 ماہ کے بجلی بلز دیکھیں، پیٹرن سمجھیں، اور کسی پروفیشنل انسٹالر سے لوڈ کیلکولیشن کروائیں۔ اگر یہ نہیں کریں گے تو ابتدائی غلطی پوری زندگی نقصان دیتی رہے گی۔
2) سستا پینل، سستا انورٹر = مستقل مسئلے، کم پیداوار، اور بار بار خرچہ
بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ سستا سولر لے کر وہ جلدی ریکوری کر لیں گے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مارکیٹ میں ایسے نامعلوم، لوکل اسمبلڈ یا A-Class کے نام پر بیچے جانے والے B-Class سولر پینلز عام مل جاتے ہیں۔ ان پینلز کی اصل خرابی یہ ہے کہ ان کی وارنٹی مشکوک ہوتی ہے، ان کی ٹیکنالوجی پرانے معیار کی ہوتی ہے، اور گرمی میں ان کی ایفیشنسی بہت کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح سستے انورٹر جلد خراب ہو جاتے ہیں، MPPT ریڈنگ غلط دیتے ہیں، اور AC لوڈ کو صحیح سپورٹ نہیں کرتے۔
چاہے پینل ہو یا انورٹر—ایک بار خرید کر بار بار مرمت کروانا ہمیشہ نقصان دیتا ہے۔ اصل میں سولر ایک بار کا لمبا انویسٹمنٹ ہے۔ اگر آپ Tier-1 پینلز، اچھے برانڈ کے انورٹر، اور پریمیم کیبلنگ کا انتخاب کریں تو آپ کو نہ بار بار خرچہ آئے گا اور نہ سسٹم کی کارکردگی کم ہوگی۔ یاد رکھیں: سولر میں سستا ہمیشہ مہنگا ثابت ہوتا ہے۔ اچھا سسٹم 25 سال ساتھ دیتا ہے جبکہ سستا 3 سال میں جواب دے جاتا ہے۔ اگر آپ نے کوالٹی پر سمجھوتہ کیا تو بجلی فری کرنے کی بجائے سسٹم آپ کا دردِ سر بن جائے گا۔
3) غلط انسٹالیشن = سولر سسٹم کی سب سے بڑی ناکامی
آپ جتنا مرضی مہنگا پینل لگا لیں، جتنا مرضی اچھا برانڈ کا انورٹر خرید لیں… اگر انسٹالیشن غلط ہو گئی تو سب برباد۔ پاکستان میں 70% مسائل انسٹالیشن کی غلطیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ جیسے:
-
پینلز کا زاویہ ٹھیک نہ ہونا
-
دھوپ کی سمت کا غلط انتخاب
-
کم معیار کے MC4 کنیکٹر
-
لوکل یا کمزور وائرنگ
-
مناسب Earthing کا نہ ہونا
-
انورٹر کی غلط جگہ فٹمنٹ
-
بیٹری وائرنگ میں اوور ہیٹنگ
ایسی غلطیاں پیداوار کم کر دیتی ہیں، کبھی شارٹ سرکٹ کا خطرہ، کبھی انورٹر کا گرم ہونا، اور کبھی بیٹریز کا خراب ہونا۔ ایک پروفیشنل کمپنی وہ ہوتی ہے جو پہلے سائٹ سروے کرے، سٹرکچر مضبوط بنائے، وائرنگ نیٹ کرے، اور تمام سیفٹی اسٹینڈرڈز فالو کرے۔ جب تک آپ انسٹالیشن پروفیشنل سے نہیں کروائیں گے تو چاہے لاکھوں روپے خرچ کر لیں، فائدہ نہیں ہوگا۔ اچھی انسٹالیشن آدھا سسٹم ہے!
آخر میں اہم بات: سولر تب فائدہ دیتا ہے جب آپ سمجھداری سے فیصلہ کریں
سولر آپ کے گھر کو بجلی کے مسئلوں سے آزاد کر سکتا ہے۔ آپ کے ماہانہ ہزاروں روپے بچا سکتا ہے۔ آپ کے گھر کی ویلیو بڑھا سکتا ہے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ ان 3 اہم اصولوں کو سمجھ لیں:
صحیح سائز → اچھی کوالٹی → پروفیشنل انسٹالیشن
یہ تین چیزیں وہ بنیاد ہیں جو سولر کو نقصان سے بچا کر فائدہ دیتی ہیں۔ اگر آپ نے صحیح سسٹم منتخب کر لیا، اچھی کمپنیاں اور برانڈز چُن لیے، اور انسٹالیشن مضبوط کر لی، تو آپ کا سولر کم از کم 20–25 سال بہترین کارکردگی دے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ نے تھوڑی سی لاپرواہی کی، یا کسی سستے انسٹالر کا سہارا لیا، تو بعد میں مرمت، ڈاؤن ٹائم، کم پیداوار اور اضافی خرچے آپ کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔
آخر میں یاد رکھیں: سولر ایک سرمایہ کاری ہے، خرچہ نہیں۔ صحیح فیصلے کریں گے تو یہ سسٹم آپ کو سالوں سال بجلی کے بلوں سے بچا کر ہر ماہ حقیقی بچت دے گا۔ اور اگر غلطی کی تو وہی سسٹم ایک بوجھ بن جائے گا جسے آپ چھوڑ بھی نہیں سکتے۔ اس لیے سولر کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں اور خود کو نقصان سے بچائیں۔
